ئی دہلی،30 اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) نامزدگی کے آخری دن وارانسی میں دو تاریخ رقم کی گئی ایک تو رات کے 11. 15 تک فارم داخل ہوتا رہا اور دوسرا وزیر اعظم مودی کے خلاف کل 102 لوگوں نے انتخابی میدان میں اترے ہیں۔ اس سے پہلے 2014 کے انتخابات میں 62 لوگوں نے فارم داخل کیا تھا۔جس نامزدگی جانچ کے بعد کل 41 امیدوار میدان میں رہ گئے تھے۔اس بار بھی پرچہ نامزدگی جانچ اور واپسی کے بعد فائنل لسٹ تیار ہو گی لیکن فی الحال تو 102 لوگ میدان میں ہیں۔ان امیدواروں میں تلنگانہ سے آئے کسان ہیں تو نریندر مودی کے ہمشکل بھی ہیں۔اوردبنگ عتیق احمدبھی ہیں تو گورکھپور سے آئے ’آرتھی بابا‘ بھی ہیں۔لوگوں کی نگاہیں بی ایس ایف سے برخاست جوان تیج بہادر پر ہیں۔غور طلب ہے کہ بنارس میں انتخابات آخری مرحلے میں ہے لہٰذا یہاں نامزدگی 22 اپریل سے شروع ہوئی۔سب سے پہلے مودی کے خلاف لڑنے کیلئے بی ایس ایف سے برخاست نوجوان تیج بہادر نے یہاں سے آزاد امیدوار اپنا فارم بھرا اور اپنے فوجی ساتھیوں کے ساتھ تشہیرمیں لگ گئے۔اور غریب کسان، نوجوان اور مظلوموں کی آواز بن کر اور اپنے مسائل کے ساتھ وہ سڑکوں پر نکل کر ووٹ اور نوٹ دونوں مانگنے لگے۔بی ایس ایف کی وردی میں ان مسائل کے ساتھ سڑکوں پر جب لوگوں نے انہیں دیکھا تو نہ صرف خیر مقدم کیا بلکہ اپنی حیثیت کے مطابق چندہ بھی دیا۔ان اس شہرت کو دیکھ کر سماج وادی پارٹی نے پی ایم کو گھیرنے کے لئے نئی حکمت بنائی اور فوج کے نام پر ووٹ مانگ رہے مودی کے خلاف فوج کے جوان کو اتار کر کہا کہ یہ جنگ اصلی چوکیدار بمقابلہ نقلی چوکیدار ہے۔برخاست نوجوان تیج بہادر جن مسائل کو لے کر میدان میں ہیں ویسے ہی مسئلے لے کر دوسرے امیدوار بھی پی ایم مودی کو گھیرنے میں مصروف ہیں۔ انہیں آرتھی بابا کہا جاتا ہے۔